آپ يہاں ہیں
ہوم > اہم خبریں > جمہوریت کیا ہوتی ہے؟

جمہوریت کیا ہوتی ہے؟

democracy

جمہوریت کی بنیاد انسانی مساوات اور عدل و انصاف پر ھوتی ھے۔ جمہوریت میں اگر ایمان شامل ھو جائے تو اسلامی نظام بن جاتا ھے۔ جو ملاں جمہوریت کی مخالفت کرتا ھے وہ نہ اسلام کو سمجھتا ھے اور نہ ہی جمہوریت کو۔ سب سے زیادہ جمہوریت اسلام میں ہے۔ مولوی صاھب شاید صرف الیکشن کو جمہوریت سمجھتے ہیں۔ ایسا نظام جس میں جمہور کو ربّی حقوق ملیں، امیر کے محاسبے کا حق ہو اور اپنے امیر کا چنائو لوگ باہمی مشاورت سے خود کریں تو ایسے نظام حکومت کو جمہوریت کہتے ہیں۔
عدل و انصاف ہی دین کی روح ہے۔ سورہ الحدید میں اللہ پاک نے فرمایا کہ ہم نے پیغمبر ، کتابیں اور میزان اس لیئے بهیجے کہ لوگوں میں عادلانہ نظام قائم کیا جائے. جمہوریت میں حکمران اور عوام کا فرق کم کرنے کی کوشش کی جاتی ھے۔ حکمران قوم کے پیسے سے اپنا گھر نہیں بنا سکتے، اپنا علاج نہیں کروا سکتے، اپنے لیئے گاڑی یا ہیلی کاپٹر نہیں خرید سکتے، قوم کے پیسے سے حج نہیں کر سکتے۔
جمہوریت اور اسلام میں دارالحکومت یا بڑے شہر یا صوبے کو فوقیت دینے کی بجائے لوگوں کو ان کی کمیونٹی میں حقوق اور انصاف فراہم کیا جاتا ہے ۔ پاکستان میں حکمرانوں نے دھوکے سے جمہوریت کے نام پر جمہور کا گلا کاٹا اور عوام کی حق تلفی کر کے سارے وسائل اپنے گھروں اور شہروں میں لگا دیئے، سارے ھسپتال، ہائیکورٹ، یونیورسٹیاں وغیرہ وہیں بنا لیں۔
یہ خبر بھی پڑھیں: قلعہ دراوڑ کی اہمیت اور تاریخدینی اقتدار کو خلافت کہتے هیں جس میں امیرالمومنین اسلامی قانون پر صرف عملدرآمد کروا سکتا هے مگر خود کوئی قانون نہیں بنا سکتا. کیونکہ قرآن میں بتایا گیا ھے کہ الله کے حکم کے سوا کوئی حکم نہیں دیا جا سکتا. جبکہ لادینی اقتدار میں حکمران پارلیمنٹ کی مشاورت سے کوئی بھی قانون یا حکم جاری کر سکتا هے جس کا وہاں کے مذہب کے مطابق هونا ضروری نہیں ھوتا. یعنی اسلام میں قانون مقرر هے صرف امارت کے لئے اچهے اور قابل شخص کا انتخاب هوتا هے. جبکہ سیکولر جمہوریت میں سیاسی پارٹیوں کا مقابلہ هوتا هے جن کا اپنا اپنا منشور اور قائدہ قانون هوتا هے.
اسلام میں اللہ کے جائز کردہ کاموں پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی اور ناجائز کاموں کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔ البتہ حکومت لوگوں کے انفرادی یا خاندانی معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی ۔ شخصی آزادی کو مکمل تحفظ حاصل ھوتا ھے۔ زمینداری نظام کمیونزم جیسا اور معاشرتی نظام سوشلزم جیسا ھوتا ھے۔ شرم کی بات ھے کہ پاکستان میں علمائے کرام نے سرمایہ داری نظام کو اسلام کے قریب بتایا ہے حالانکہ قرآن و حدیث میں اس نظام سے بچنے کی تلقین فرمائی گئی ہے ۔
اسلام اور جمہوریت دونوں طریقوں میں ایک بات مشترک هے کہ امیرالمومنین یا حکمران کا انتخاب لوگوں کی مشاورت سے ہی کیا جائیگا. بادشاہت یا ڈکٹیٹرشپ کا دونوں میں کوئی جواز نہیں هے. جس میں قومی خزانہ لوگوں پر غیر اسلامی ٹیکس لگا کر بھرا جائے اور حکمران اس سے عیاشی کرتے جائیں ۔ کسی کو احتساب کرنے کی اجازت نہ ھو ۔

جواب دیں

Top