آپ يہاں ہیں
ہوم > پاکستان > پاکستانی با اثر شخصیات جن کا پاناما لیکس میں نام آ یا

پاکستانی با اثر شخصیات جن کا پاناما لیکس میں نام آ یا

Panama

اب تک افشا کردہ دستاویزات کی رو سے تقریباً چار سو پاکستانیوں نے بیرون ملک 266آف شور یا شیل کمپنیاں کھلوائیں۔ ان پاکستانیوں میں وطن عزیز کی مشہور سیاسی، سماجی اور کاروباری شخصیات شامل ہیں۔ ان میں سے ا ہم مرد و زن کے نام درج ذیل ہیں:

مرحوم وزیراعظم بے نظیر بھٹو
مریم نوازشریف
حسین نوازشریف
حسن نوازشریف
رحمان ملک (سینٹر پی پی پی)
انور سیف اللہ (سابق وزیر)
سلیم سیف اللہ (سابق وزیر)
صبا عبید (شرمین عبید چنائے کی والدہ)
ساجد محمود (سیٹھ عابد کا بیٹا)
احمد علی ریاض (ملک ریاض کا بیٹا)
صدر الدین ہاشوانی
ثمینہ درانی (میاں شہبازشریف کی بیگم)
اظفر حسن (ایڈمرل (ر) مظفر حسن کا بیٹا)۔
اعداد و شمار کے مطابق کراچی کے باسیوں نے مونساک فونسکا سے سب سے زیادہ آف شور کمپنیاں کھلوائیں، جن کی تعداد 153ہے، جب کہ لاہور میں ایسے 108مردوزن آباد ہیں۔ 153پاکستانیوں کی کمپنیاں برٹش ورجن آئی لینڈ، 43کمپنیاں پاناما اور 34 سیشیلیز میں رجسٹرڈ ہوئیں۔ بہاماس بھی اس ضمن میں پاکستانیوں کا من پسند مقام رہا۔ پاناما لیکس کی رو سے 34کمپنیاں سیف اللہ خاندان سے تعلق رکھتی ہیں، جو سب سے بڑی تعداد ہے۔ اس کے بعد سیٹھ عابد کا خاندان 30کمپنیوں کا مالک نکلا۔ اس کے بعد شریف خاندان (16کمپنیاں)‘ ذوالفقار بخاری (6کمپنیاں)‘ اعظم سلطان (5کمپنیاں) اور یوسف عبداللہ خاندان (5کمپنیاں) کا نمبر آتا ہے۔
یہ خبر بھی پڑھیں:‌ لاہور ہائیکورٹ بار نے وزیر اعظم سے اہم کا مطالبہ کر دیاعالمی سطح پر کاروبار اور تجارت کرنے کی غرض سے تاجر اور صنعت کار عموماً آف شور کمپنیاں کھولتے اور بند کرتے رہتے ہیں۔ یہ عالمی معاشی نظام میں ایک جائز عمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں وہ کاروباری شخصیات اور صنعت کار تنقید کا کم ہی نشانہ بنے، جن کے نام پاناما پیپرز میں شامل تھے۔
میڈیا سے لے کر عوام تک نے لیکس میں شامل سیاست دانوں اور دیگر حکومتی عہدے داروں کے خلاف سب سے زیادہ احتجاج کیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ملکی وبین الاقوامی سطح پر وہی ملک و قوم کی نمائندگی کرتے اور نمایاں چہرہ ہوتے ہیں۔ اسی باعث انہیں ہی اپنے اپنے ملک میں عوامی غیظ و غضب اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم اب ہر ملک میں کاروباری طبقے کی بھی کڑی نگرانی ہو رہی ہے، تاکہ وہ آف شور یا شیل کمپنی سے ناجائز وغیرقانونی فوائد حاصل نہ کرسکے۔

جواب دیں

Top