آپ يہاں ہیں
ہوم > پاکستان > قلعہ دراوڑ کی اہمیت اور تاریخ

قلعہ دراوڑ کی اہمیت اور تاریخ

darawar

چولستان میں پائی جانے والی تاریخ اور طرز تعمیر کے آثار پاکستان کی نایاب آرٹ اور ثقافت میں سنہرے باب کی حیثیت رکھتے ہیں زمانہ قدیم کے چولستان کی آب و ہوا آج کے چولستان کی آب و ہوا سے بڑی مختلف ہے۔ چولستان میں پائے جانے والی عمارتوں میں دراوڑ کا قلعہ سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے کہ جیسے ریت کے سمندر میں ایک تباہ کن بحری جہاز لنگر انداز ہے 18 ویں صدی بعدازمسیح کے اوائل میں فوجی طرز تعمیر کا بنایا گیا یہ قلعہ اب بھی بڑی اچھی حالت میں محفوظ ہے یہ اب بھی بہاولپور کے نوابوں کے قبضے میں ہے جنہوں نے اپنے آپ کو اس علاقے میں قائم رکھا ہوا ہے۔ قلعہ دراوڑ کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی بنیادیں اسلام سے قبل بنائے جانے والے قلعے کی بنیادوں پر رکھی گئی ہیں بعض روایات کے مطابق اسے بھاٹی یا بھاٹیہ نے تعمیر کیا تھا جس کا نام ڈیرہ سڈھ تھا اسے دیوراول بھی کہا جاتا ہے اس قلعے کا نام درحقیقت اس کے نام پر دیوراول رکھا گیا تھا لیکن بعدازاں اسے دراوڑ کہا جانے لگا۔
قلعہ دراوڑ کی اولین تاریخ کیا ہے اس کے متعلق ہمیں زیادہ معلومات نہیں ہیں البتہ ہمیں یہ ضرور معلوم ہے کہ کیسے بہاولپور کے نواب محمد خان اول نے1733ء بعد از مسیح میں دوبارہ تعمیر کروایا تھا۔ چھ سال بعد نادر شاہ نے نواب کے خطاب سے نوازا اور سندھ کا وسیع و عریض علاقہ انہیں عطاء کیا جس میں موجودہ شکار پور، لاڑ کانہ، سیوستان اور چہاہ ٹھیار کے علاقے شامل تھے دراوڑ کا علاقہ ان تمام علاقوں کے علاوہ عطاء کیا گیا تھا۔ دوسرے نواب محمد بہاول خان کے دور میں راول رائے سنگھ نے 1747ء بعداز مسیح میں اس پر دوبارہ قبضہ کرلیا۔ کم و بیش تیسرے نواب مبارک خان کے دور میں اسے رضا کارانہ طور پر اس شرط پر واپس کر دیا گیا کہ اس قلعہ کی آمدنی کا نصف انہیں ادا کیا جائے گا۔ بہاولپور کا علاقہ اور قلعہ دراوڑ تیمور شاہ نے 1788ء میں اپنے قبضے میں لے لیا اور اسے تھوڑے عرصے کے لیے شاہ محمد خان کی نگرانی میں دیدیا لیکن جلد ہی چوتھے نواب محمد بہاول خان دوئم نے ان دونوں علاقوں کو اپنے قبضے میں لے لیا۔18 ویں صدی کے آخری راج میں دراوڑ کا علاقہ بہاولپور سٹیٹ کے سابق حاکموں کے کنٹرول میں تھا۔
شاہی قبرستان اور سنگ مرمر کی ایک بڑی خوبصورت مسجد قلعے کے باہر بڑے واضح طور پر دکھائی دیتی ہے یہ جگہ ایک بڑی عمدہ کاروباری مرکز خیال کی جاتی تھی۔ قلعہ دراوڑ میں چالیس برج، اندر ایک کنواں اور مرکزی دروازے میں پانی کا ایک بڑا تالاب ہے۔ قلعہ چوکور تقریباً220 میٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور بل کھائے ہوئے دریا کے کنارے مشرقی سمت میں قلعے کا کلیدی پھاٹک ہے اس کے زیادہ تر برج ابھی تک قائم ہیں جس کے اوپر سیاہ اینٹوں سے اقلیدسی ڈیزائن نہایت خوبصورت ہیں جن سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ برجوں میں وقتاً فوقتاً کب اور کیسے ترمیم اور مرمت کی گئی ہے قلعے کی افقی دیواریں گردا گرد خندق میں سے اٹھتی ہوئی30-32 میٹر اونچی ہیں۔ جنوب مشرق کونے میں پانی کا ایک قدرتی تالاب جسے مقامی زبان میں(ٹوبا) کہتے ہیں قلعے میں بسنے والی انسانی اور حیوانی زندگیوں کی ضرورت پورا کرتا قلعے کے اندر بیشتر عمارات جو نواب کے فوجی دستوں اور شاہی رہائش گاہ کے طور پر استعمال ہوتی رہی ابھی تک موجود ہیں۔ دیواروں کی اندرونی اونچائی 20 میٹر ہے جنوب مشرقی برج میں نواب کی ذاتی رہائش گاہ نہایت خوبصورتی سے منقش کی گئی ہے اور اس پر جھنڈا لہرا رہا ہے گویا کہ ایام رفتہ کی یاد دہانی کروا رہا ہے۔

One thought on “قلعہ دراوڑ کی اہمیت اور تاریخ

جواب دیں

Top