آپ يہاں ہیں
ہوم > خصوصی مضامین > ہپنا ٹزم کی حقیقت!

ہپنا ٹزم کی حقیقت!

pendulum.jpg

لفظ ہپنا ٹزم مغرب والوں کی ایجاد ہے ہپنا ٹزم کے لفظی معنی غنودگی کے ہیں یعنی نیند جیسی حالت کیونکہ جب کسی کو ہپنا ٹائز کیا جاتا ہے تو اس شخص پر مصنوعی نیند طاری کر کے اپنے پیغام کو اس شخص کے دل و دماغ تک پہنچایا جاتا ہے جس شخص کو ہپنا ٹائز کیا جاتا ہے وہ شخص ہپناٹسٹ کے پیغام کے مطابق عمل کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔
ہپنا ٹائز شدہ شخص کو جو بھی پیغام غنودگی کی حالت میں دیا جاتا ہے عام حالت میں آکر ہپنا ٹائز شدہ شخص نے جو پیغام دورانِ غنودگی حاصل کیا ہو اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے یہ پیغام کسی بھی نوعیت کا ہو ہپنا ٹائز شدہ شخص ہپناٹسٹ کے پیغام پر ہر صورت عمل کرے گا اور مزے کی بات یہ کہ ہپنا ٹائز شدہ شخص کو بالکل بھی احساس نہیں ہوتا کہ وہ کیونکر یہ کام کر رہا ہے۔ اس علم سے انسان اپنی اور دوسروں کی اصلاح بھی کر سکتا ہے بےشمار بیماریوں کا علاج بھی ہپنا ٹائز سے ممکن ہے۔
مغرب والوں نے اس علم پر بہت کام کیا اور وہاں تو ہپنا ٹزم سیکھنے کے باقاعدہ ادارے بنے ہوئے ہیں اور مغرب والے اس علم پر اعتماد بھی کرتے ہیں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ علم مغرب والوں نے ایجاد کیا مگر میرے نزدیک ہپنا ٹزم اسلامی روحانی تعلیمات کے تناور درخت مراقبہ کی ایک ادنیٰ سی شاخ ہیں مغرب والوں نے صرف اس کو مذہب سے الگ کر کے ایک سائنسی رنگ دیا ہے۔
اکہ اس علم کو سیکھنے والا قاری مخصوص طریقے سے اسم الحسنیٰ کا ورد کرتا رہے تاکہ اس طریقے سے دنیاوی کامیابی کے ساتھ ساتھ آخرت بھی سنور جائے اور دل و دماغ بھی پر سکون رہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ترجمہ: بےشک دلوں کا اطمینان اللہ کے ذکر میں ہے۔
ہپنا ٹزم سیکھنے کے لیے دلی اطمینان اور ذہنی سکون کی اشد ضرورت ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے حاصل کیا جا سکتا ہے ہپنا ٹزم سیکھنے کی بنیاد تین چیزوں پر ہے۔
اول: قوتِ ارادی
دوئم: قوتِ خیال
سوئم: قوتِ تصور

اگر کوئی بھی انسان ان تین چیزوں پر تصرف حاصل کر لے تو اس انسان سے ایسے ایسے محیرا لعقول واقعات رونما ہوتے ہیں کہ دیکھنے والا انگشت بدنداں رہ جاتا ہے اس کے برعکس اگر کسی انسان میں ان تین چیزوں کا فقدان ہے تو ایسا شخص ماورائی علوم تو ایک طرف بلکہ عملی زندگی میں بھی کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں کر پاتا۔

جواب دیں

Top